Ayats Found (12)
Surah 13 : Ayat 19
۞ أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰٓۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ ٱلْأَلْبَـٰبِ
بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رب کی اِس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے، اور وہ شخص جو اس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے، دونوں یکساں ہو جائیں؟1 نصیحت تو دانش مند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں2
2 | یعنی خدا کی بھیجی ہوئی اِس تعلیم اور خدا کے رسول کی اس دعوت کو جولوگ قبول کیا کرتے ہیں وہ عقل کے اندھے نہیں بلکہ ہوش گوش رکھنے والے بیدار مغز لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر دنیا میں ان کی سیرت و کردار کا وہ رنگ اور آخرت میں اُن کا وہ انجام ہوتا ہے جو بعد کی آیتوں میں بیان ہوا ہے |
1 | یعنی نہ دنیا میں ان دونوں کا رویّہ یکساں ہوسکتا ہے اور نہ آخرت میں ان کا انجام یکساں |
Surah 13 : Ayat 24
سَلَـٰمٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْۚ فَنِعْمَ عُقْبَى ٱلدَّارِ
اور اُن سے کہیں گے کہ 1"تم پر سلامتی ہے، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو" پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر!
1 | اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہےکہ ملائکہ ہر طرف سے آ آ کر ان کو سلام کریں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ملائکہ ان کو اس بات کی خوشخبری دیں گے کہ اب تم ایسی جگہ آگئے ہو جہاں تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے۔ اب یہاں تم ہر آفت سے، ہر تکلیف سے ہر مشقت سے ، اور ہر خطرے سے اور اندیشے سے محفوظ ہو۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ حِجر ، حاشیہ نمبر ۲۹) |
Surah 25 : Ayat 63
وَعِبَادُ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى ٱلْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلْجَـٰهِلُونَ قَالُواْ سَلَـٰمًا
رحمان کے (اصلی) بندے1 وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں2 اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام3
3 | جاہل سے مراد ان پڑھ یا بے علم آدمی نہیں ، بلکہ وہ شخص ہے جو جہالت پر اتر آئے اور کسی شریف آدمی سے بد تمیزی کا برتاؤ کرنے لگے ۔ رحمان کے بندوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کالی کا جواب گالی کا جواب گالی سے اور بہتان کا جواب بہتان سے اور اسی طرح کی ہر بیہودگی کا جواب ویسی ہی بیہودگی سے نہیں دیتے بلکہ جوان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرتا ہے وہ اس کو سلام کر کے الگ ہو جاتے ہیں ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: وَاِذَ ا سَمِعُو ا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْ اعَنْہُ وَقَالُوْ الَنَا اَعْمَا لُنا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ لَا نَبْتَغِی الْجَاھِلِیْنَ O (القصص آیت 55) ’’ اور جب وہ کوئی بیہودہ بات سنتے ہیں تو اسے نظر انداز کر دیتے ہیں ، کہتے ہیں بھائی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ، سلام ہے تم کو ، ہم جاہلوں کے منہ نہیں لگتے ‘‘۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم ، القصص، حواشی 72 ۔ 78 ) |
2 | یعنی تکبر کے ساتھ اکڑتے اور اینٹھتے ہوۓ نہیں چلتے ، جبّاروں اور مفسدوں کی طرح اپنی رفتار سے اپنا زور جتانے کی کوشش نہیں کرتے ، بلکہ ان کی چال ایک شریف اور سلیم الطبع اور نیک مزاج آدمی کی سی چال ہوتی ہے ۔ ’’نرم چال‘‘ سے مراد ضعیفانہ اور مریضانہ چال نہیں ہے ، اور نہ وہ چال ہے جو ایک ریا کار آدمی اپنے انکسار کی نمائش کرنے یا اپنی خدا ترسی کا مظاہرہ کرنے کے لیے تصنع سے اختیار کرتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم خود اس طرح مضبوط قدم رکھتے ہوئے چلتے تھے کہ گویا نشیب کی طرف اتر رہے ہیں ۔ حضرت عمر کے متعلق روایات میں آیا ہے کہ انہوں نے ایک جواب آدمی کو مَریَل چال چلتے دیکھا تو روک کر پوچھا کیا تم بیمار ہو؟ اس نے عرض کیا نہیں ۔ آپ نے درہ اٹھا کر اسے دھمکایا اور بولے ۔ قوت کے ساتھ چلو۔ اس سے معلوم ہوا کہ نرم چال سے مراد ایک بھلے مانس کی سی فطری چال ہے نہ کہ وہ جو بناوٹ سے منکسرانہ بنائی گئی ہو یا جس سے خواہ مخواہ کی مسکنت اور ضعیفی ٹپکتی ہو۔ مگر غور طلب پہلو یہ ہے کہ آدمی کی چال میں آخر وہ کیا اہمیت ہے جس کی وجہ سے اللہ کے نیک بندوں کی خصوصیات گناتے ہوئے سب سے پہلے اس کا ذکر کیا گیا؟ اس سوال کو ذرا تامل کی نگاہ سے دیکھا جاۓ تو معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی چال محض اس سکے انداز رفتار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ در حقیقت وہ اس کے ذہن اور اس کی سیرت و کردار کی اولین ترجمان بھی ہوتی ہے ۔ ایک عیار آدمی کی چال، ایک غنڈے بد معاش کی چال، ایک ظالم و جابر کی چال، ایک خود پسند متکبر کی چال، ایک با وقار مہذب آدمی کی چال ، ایک غریب مسکین کی چال، اور اسی طرح مختلف اقسام کے دوسرے انسانوں کی چالیں ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہوتی ہیں کہ ہر ایک کو دیکھ کر بآسانی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس چال کے پیچھے کس طرح کی شخصیت جلوہ گر ہے ۔ پس آیت کا مدعا یہ ہے کہ رحمان کے بندوں کو تو تم عام آدمیوں کے درمیان چلتے پھرتے دیکھ کر ہی بغیر کسی سابقہ تعارف کے الگ پہچان لو گے کہ یہ کس طرز کے لوگ ہیں ۔ اس بندگی نے ان کی ذہنیت اور ان کی سیرت کو جیسا کچھ بنا دیا ہے اس کا اثر ان کی چال تک میں نمایاں ہے ۔ ایک آدمی انہیں دیکھ کر پہلی نظر میں جان سکتا ہے کہ یہ شریف اور حلیم اور ہمدرد لوگ ہیں ، ان سے کسی شر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، بنی اسرائیل ، حاشیہ 43 ۔ جلد چہارم، لقمان ، حاشیہ 33) |
1 | یعنی جس رحمان کو سجدہ کرنے کے لیے تم سے کہا جا رہا ہے اور تم اس سےانحراف کر رہے ہو اس کے پیدائشی بندے تو سب ہی ہیں ، مگر اس کے محبوب و پسندیدہ بندے وہ ہیں جو شعوری طور پر بندگی اختیار کر کے یہ اور یہ صفات اپنے اندر پیدا کرتے ہیں ۔ نیز یہ کہ وہ سجدہ جس کی تمہیں دعوت دی جا رہی ہے اس کے نتائج یہ ہیں جو اس کی بندگی قبول کرنے والوں کی زندگی میں نظر آتے ہیں ، اور اس سے انکار کے نتائج وہ ہیں جو تم لوگوں کی زندگی میں عیاں ہیں ۔ اس مقام پر اصل مقصود سیرت و اخلاق کے دو نمونوں کا تقابل ہے ۔ ایک وہ نمونہ جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی قبول کرنے والوں میں پیدا ہو رہا تھا، اور دوسرا وہ جو جاہلیت پر جمے ہوئے لوگوں میں ہر طرف پایا جاتا تھا۔ لیکن اس تقابل کے لیے طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ صرف پہلے نمونے کی نمایاں خصوصیات کو سامنے رکھ دیا، اور دوسرے نمونے کو ہر دیکھنے والی آنکھ اور سوچنے والے ذہن پر چھوڑ دیا کہ وہ آپ ہی مقابل کی تصویر کو دیکھے اور آپ ہی دونوں کا موازنہ کر لے ۔ اس کے بیان کی حاجت نہ تھی، کیونکہ ہو گرد و پیش سارے معاشرے میں موجود تھا۔ |
Surah 25 : Ayat 74
وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَٲجِنَا وَذُرِّيَّـٰتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَٱجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ 1"اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا2"
2 | یعنی ہم تقویٰ اور طاعت میں سب سے بڑھ جائیں ، بھلائی اور نیکی میں سب سے آگے نکل جائیں محض نیک ہی نہ ہوں بلکہ نیکوں کے پیشوا ہوں اور ہماری بدولت دنیا بھر میں نیکی پھیلے ۔ اس چیز کا بھی یہاں در اصل یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مال و دولت اور شوکت و حشمت میں نہیں بلکہ نیکی و پرہیز گاری میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔مگر ہمارے زمانے میں کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں جنہوں نے اس آیت کو بھی امامت کی امیدواری اور ریاست کی طلب کے لیے دلیل جواز کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ ’’ یا اللہ متقی لوگوں کو ہماری رعیت اور اہم کو ان کا حکمراں بنا دے ‘‘۔ اس سخن فہمی کی داد ’’امیدواروں ‘‘ کے سوا اور کون دے سکتا ہے |
1 | یعنی ان کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق دے اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ کر ، کیونکہ ایک مومن کو بیوی بچوں کے حسن و جمال اور عیش و آرام سے نہیں بلکہ ان کی نیک خصالی سے ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے ۔ اس کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز تکلیف دہ نہیں ہو سکتی کہ جو دنیا میں اس کو سب سے زیادہ پیارے ہیں انہیں دوزخ کا ایندھن بنے کے لیے تیار ہوتے دیکھے ۔ ایسی صورت میں تو بیوی کا حسن اور بچوں کی جوانی و لیاقت اس کے لیے اور بی زیادہ سوہان روح ہو گی، کیونکہ وہ ہر وقت اس رنج میں مبتلا رہے گا کہ یہ سب اپنی ان خوبیوں کے باوجود اللہ عذاب میں گرفتار ہونے والے ہیں ۔ یہاں خاص طور پر یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ جس وقت یہ آیات نازل ہوئی ہیں وہ وقت وہ تھا جب کہ مکہ کے مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس کے محبوب ترین رشتہ دار کفر و جاہلیت میں مبتلا نہ ہوں ۔ کوئی مرد ایمان لے آیا تھا تو اس کی بیوی ابھی کافر تھی۔ کوئی عورت ایمان لے آئی تھی تو اس کا شوہر ابھی کافر تھا۔ کوئی نوجوان ایمان لے آیا تھا تو اس کے ماں باپ اور بھائی بہن ، سب کے سب کفر میں مبتلا تھے ۔ اور کوئی باپ ایمان لے آیا تھا تو اس کے اپنے جوان جوان بچے کفر پر قائم تھے ۔ اس حالت میں ہر مسلمان ایک شدید روحانی اذیت میں مبتلا تھا اور اس کے دل سے وہ دعا نکلتی تھی جس کی بہترین ترجمانی اس آیت میں کی گئی ہے ۔’’ آنکھوں کی ٹھنڈک‘‘ نے اس کیفیت کی تصویر کھینچ دی ہے کہ اپنے پیاروں کو کفر و جاہلیت میں مبتلا دیکھ کر ایک آدمی کو ایسی اذیت ہو رہی ہے جیسے اس کی آنکھیں آشوب چشم سے ابل آئی ہوں اور کھٹک سے سوئیاں سی چبھ رہی ہوں ۔ اس سلسلہ کلام میں ان کی اس کیفیت کو در اصل یہ بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ جس دین پر ایمان لائے ہیں پورے خلوص کے ساتھ لائے ہیں ۔ ان کی حالت ان لوگوں کی سی نہیں ہے جن کے خاندان کے لوگ مختلف مذہبوں اور پارٹیوں میں شامل رہتے ہیں اور سب مطمئن رہتے ہیں کہ چلو، ہر بینک میں ہمارا کچھ نہ کچھ سرمایہ موجود ہے |
Surah 25 : Ayat 75
أُوْلَـٰٓئِكَ يُجْزَوْنَ ٱلْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُواْ وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَـٰمًا
یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل1 منزل بلند کی شکل میں پائیں گے2 آداب و تسلیمات سے اُن کا استقبال ہو گا
2 | اصل میں لفظ غُرْفَہ استعمال ہوا ہے جس کے معنی بلند و بالا عمارت کے ہیں ۔ اس کا ترجمہ عام طور پر ’’بالا خانہ‘‘ کیا جاتا ہے جس سے آدمی کے ذہن میں ایک دو منزلہ کوٹھے کی سی تصویر آ جاتی ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں انسان جو بڑی سے بڑی اور اونچی سے اونچی عمارتیں بناتا ہے ، حتّیٰ کہ ہندوستان کا روضہ تاج اور امریکہ کے ’‘ فلک شگاف‘‘ (Sky-scrapers) تک جنت کے ان محلات کی محض ایک بھونڈی سی نقل ہیں جن کا ایک دھندلا سا نقشہ اولاد آدم کے لا شعور میں محفوظ چلا آتا ہے |
1 | صبر کا لفظ یہاں اپنے وسیع ترین مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔ دشمنان حق کے مظالم کو مردانگی کے ساتھ برداشت کرنا ۔ دین حق کو قائم اور سربلندی کرنے کی جدو جہد میں ہر قسم کے مصائب اور تکلیفوں کو سہہ جانا ۔ ہر خوف اور لالچ کے مقابلے میں راہ راست پر ثابت قدم رہنا ۔ شیطان کی تمام ترغیبات اور نفس کی ساری خواہشات کے علی الرغم فرض کو بجا لانا، حرم سے پرہیز کرنا اور حدود اللہ پر قائم رہنا ۔ گناہ کی ساری لذتوں اور منفعتوں کو ٹھکرا دینا اور نیکی و دوستی کے ہر نقصان اور اس کی بدولت حاصل ہونے والی ہر محرومی کو انگیز کر جانا۔ غرض اس ایک لفظ کے اندر دین اور دینی رویے اور دینی اخلاق کی ایک دنیا کی دنیا سمو کر رکھ دی گئی ہے |
Surah 25 : Ayat 76
خَـٰلِدِينَ فِيهَاۚ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا
وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام
Surah 29 : Ayat 58
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَاۚ نِعْمَ أَجْرُ ٱلْعَـٰمِلِينَ
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند و بالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے1
1 | یعنی اگر ایمان اور نیکی کے راستہ پر چل کر بالفرض تم دنیا کی ساری نعمتوں سے محروم بھی رہ گئے اور دنیوی نقطہ نظر سے سراسر ناکام بھی مرے تو یقین رکھو کہ اس کی تلافی بہر حال ہو گی اور نری تلافی ہی نہ ہو گی بلکہ بہرین اجر نصیب ہو گا۔ |
Surah 29 : Ayat 59
ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں2
2 | یعنی جنہوں نے بھروسہ اپنی جائدادوں اور اپنے کاروبار اور اپنے کنبے قبیلے پر نہیں بلکہ اپنے رب پر کیا۔ جو اسبابِ دنیوی سے قطع نظر کر کے محض اپنے رب کے بھروسے پر ایمان کی خاطر ہر خطرہ سہنے اور ہر طاقت سے ٹکرا جانے کے لیے تیار ہو گئے، اور وقت آیا تو گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔ جنہوں نے اپنے رب پر یہ اعتماد کیا کہ ایمان اور نیکی پر قائم رہنے کا اجر اس کے ہاں کبھی ضائع نہ ہوگا اور یقین رکھا کہ وہ اپنے مومن و صالح بندوں کی اس دنیا میں بھی دستگیری فرمائے گا اور آخرت میں بھی ان کے عمل کا بہترین بدلہ دے گا۔ |
Surah 46 : Ayat 13
إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَـٰمُواْ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر اُس پر جم گئے، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے1
1 | تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، حٰم السجدہ، حاشیہ نمبر 33 تا 35 |
Surah 46 : Ayat 16
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُواْ وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّـَٔـاتِهِمْ فِىٓ أَصْحَـٰبِ ٱلْجَنَّةِۖ وَعْدَ ٱلصِّدْقِ ٱلَّذِى كَانُواْ يُوعَدُونَ
اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں1 یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے
1 | یعنی دنیا میں انہوں نے جو بہترسے بہتر عمل کیا ہے آخرت میں ان کا درجہ اسی کے لحاظ سے مقرر کیا جائے گا۔ اور ان کی لغزشوں، کمزوروں اور خطاؤں پر گرفت نہیں کی جائے گی یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک کریم النفس اور قدر شناس آقا اپنے خدمت گذار اور وفادار ملازم کی قدر اس کی چھوٹی چھوٹی خدمات کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس کی کسی ایسی خدمت کے لحاظ سے کرتا ہے جس میں اس نے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو، یا جانثاری یا وفاشعاری کا کمال کر دکھایا ہو۔ اور ایسے خادم کے ساتھ وہ یہ معاملہ نہیں کیا کرتا کہ اس کی ذرا ذرا سی کوتاہیوں پر گرفت کر کے اس کی ساری خدم ت پر پانی پھیر دے |