Ayats Found (2)
Surah 20 : Ayat 74
إِنَّهُۥ مَن يَأْتِ رَبَّهُۥ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُۥ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ
حقیقت 1یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اُس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا2
2 | یعنی موت اور زندگی کے درمیان لٹکتا رہے گا۔ نہ موت آۓ گی کہ اس کی تکلیف اور مصیبت کا خاتمہ کر دے۔ اور نہ جینے کا ہی کوئی لطف اسے حاصل ہو گا کہ زندگی کو موت پر ترجیح دے سکے۔ زندگی سے بیزار ہو گا، مگر موت نصیب نہ ہو گی۔ مرنا چاہے گا مگر مر نہ سکے گا۔ قرآن مجید میں دوزخ کے عذابوں کی جتنی تفصیلات دی گئی ہیں ان میں سب سے زیادہ خوفناک صورت عذاب یہی ہے جسکے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ |
1 | یہ جادو گروں کے قول پر اللہ تعالٰی کا اپنا اضافہ ہے۔ انداز کلام خود بتا رہا ہے کہ یہ عبارت جادو گروں کے قول کا حصہ نہیں ہے۔ |
Surah 87 : Ayat 13
ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ
پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے1 گا
1 | یعنی نہ اسے موت ہی آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے، اور نہ جینے کی طرح جیے گا کہ زندگی کا کوئی لطف اسے حاصل ہو۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے ہے جو سرے سے اللہ ا ور اس کے رسولؐ کی نصیحت کو قبول ہی نہ کریں اور مرتے دم تک کفروشرک یا دہریت پر قائم رہیں۔ رہے وہ لوگ جو دل میں ایمان رکھتے ہوں مگر اپنے برے اعمال کی بنا پر جہنم میں ڈالے جائیں تو ان کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ جب وہ اپنی سزا بھگت لیں گے تو اللہ تعالٰی انہیں موت دے دے گا، پھر ان کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی اور ان کی جلی ہو لاشیں جنت کی نہروں پر لا کرڈالی جائیں گی اور اہل جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو اور اس پانی سے وہ اس طرح جی اٹھیں گے جیسے نباتات پانی پڑنے سے اُ گ آتی ہیں۔ یہ مضمون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسل میں حضرت ابو سعید خدری اور بزار میں حضرت ابو ہریرہؓ کے حوالہ سے منقول ہوا ہے۔ |