Ayats Found (1)
Surah 27 : Ayat 61
أَمَّن جَعَلَ ٱلْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَـٰلَهَآ أَنْهَـٰرًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٲسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ ٱلْبَحْرَيْنِ حَاجِزًاۗ أَءِلَـٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا1 اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کر دیے؟ 2کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (اِن کاموں میں شریک) ہے؟ نہیں، بلکہ اِن میں سے اکثر لوگ نادان ہیں
2 | یعنی میٹھے اورکھارے پانی کے ذخیرے جواسی زمین پرموجود ہیں مگر باہم خلط ملط نہیں ہوتے۔ زیر زمین پانی کی سوتیں بسااوقات ایک ہی علاقے میں کھاری پانی الگ اورمیٹھا پانی الگ لےکرچلتی ہیں۔ کھاری پانی کے سمندر تک میں بعض مقامات پرمیٹھے پانی کےچشمے رواں ہوتے ہیں اوران کی دھار سمندر کے پانی سے اس طرح الگ ہوتی ہے کہ بحری مسافر اس میں سے ملنے پانی حاصل کرسکتے ہیں۔ (تفصیلی بحث کےلیے ملاحظہ ہوتفہیم القرآن، سورہ الفرقان ، حاشیہ۶۸) |
1 | زمین کا اپنی بحدوحساب مختلف النوع آبادی کےلیےجائے قرار ہونا بھی کوئی سادہ سی بات نہیں ہے۔اس کرہ خاکی کو جن حکیمانہ مناسبتوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے ان کی تفصیلات پرآدمی غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اوراسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم ودانائی قادر مطلق کی تدبیر کے بغیر قائم نہ ہوسکتی تھیں۔ یہ کرہ فضائے بسیط میں معلق ہے کسی چیز پرٹکا ہوانہیں ہے مگر اس کے باوجود اس میں کوئی اضطراب اوراہتزا نہیں ہے۔ اگر اس میں ذرا سا بھی اہتزا ہوتا، جس کے خطرناک نتائج کا ہم کبھی زلزکے آجانے سے بآسانی اندازہ لگاسکتے ہیں، تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ تھی۔ یہ کرہ باقاعدگی کے ساتھ سورج کے سامنے آتا اورچھپتا ہے جس سے رات اور دن کا اکختلاف رونما ہوتا ہے۔ اگراس کا ایک رُخ ہر وقت سورج کےسامنے رہتا اور دوسرا رُخ ہر وقت چھپارہتا تو ہیاں کوئی آبادی ممکن نہ ہوتی کیونکہ ایک رُخ کوسردی اوربےنوری نباتات اورحیوانات کی پیدائش کے قابل نہ رکھتی اور دوسرے رُخ کوگرمی کی شدت بےآب وگیا اورغیرآبادی بنادیتی۔ اس کرہ پرپانچ سو میل کی بلندی تک ہوا کا ایک کثیف ردّاچڑھادیا گیا ہے جوشہادتوں کی خوفناک بم باری سے اسے بچائے ہوئے ہے ورنہ روزانہ دوکروڑ شہاب، جو۳۰میل فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی طرف گرتے ہیں، یہاں وہ تباہی مچاتے کہ کوئی انسان،حیوان یا درخت جیتا نہ رہ سکتا تھا۔ یہی دہوا درجہ حرارت کوقابو میں رکھتی ہے، یہی سمندورںسےبادل اُٹھاتی اورزمین کے مختلف حصوں تک آب رسانی کی خدمت انجام دیتی ہے اور یہی انسان اورحیوان اورنباتات کی زندگی کومطلوبہ گیسیں فراہم کرتی ہے۔ یہ نہ ہوتی تب بھی زمین کسی آبادی کےلیے جائے قرار نہ بن سکتی۔ اُس کرے کی سطح سے بالکل متصل وہ معدنیات اورمختلف قسم کے کیماوی اجزاء بڑے پیمانے پرفراہم کردیے گئے ہیں جونباتی، حیوانی اورانسانی زندگی کےلیے مطلوب ہیں۔ جس جگہ یہ سروسامان مفقود ہوتا ہے وہاں کی زمین کسی زندگی کوسہارنے کےلائق نہیں ہوتی۔ اس کُر پر سمندروں، دریاؤں جھیلون،چشموں اورزیرزمین سوتوں کی شکل میں پانی کا بڑا عظیم الشان زخیرہ فراہم کردیا گیا کسی زندگی کا امکان نہ تھا۔ پھر اس پانی، ہواورتمام اُن اشیاء کوجوزمین پرپائی جاتی ہیں، سمیٹے رکھنے کےلیے اس کُرے میں نہایت ہی مناسب کشش رکھ دی گئی ہے ۔ یہ کشش اگر کم ہوتی تو ہوا اورپانی، دونوں کونہ روک سکتی اوردرجہ حرارت اتنا زیادہ آبی کا اُٹھنا مشکل ہوتا اوربارشیں نہ ہوسکتیں، سردی زیادہ ہوتی، زمین کے بہت کم رقبے آبادی کے قابل ہوتے، بلکہ کشش ثقل بہت زیادہ ہونے کی صورت میں انسان اورحیوانات کی جسامت بہت کم ہوتی اوران وزن اتنا زیادہ ہوتا کہ نقل وحرکت بھی ان کےلیے مشکل ہوتی۔ علاوہ بریں، اس کُرے کوسورج سے ایک خاص فاصلے پررکھا گیا ہے جو آبادی کےلیے مناسب ترین ہے۔ اگر اس کافاصلہ زیادہ ہوتا تو سورج سے اس کو حرارت کم ملتی،سردی بہت زیادہ ہوتی، موسم بہت لمبے ہوتے، اورمشکل ہی سے یہ آبادی کے قابل ہوتا۔ اوراگر فاصلہ کم ہوتا تو اس کے برعکس گرمی کی زیادتی اوردوسری بہت سی چیزیں مل جل کراسے انسان جیسی مخلوق کی سکونت کے قابل نہ رہنے دیتیں۔ یہ صرف چند وہ مناسبتیں ہیں جن کی بدولت زمین اپنی موجودہ آبادی کےلیے جائے قرار بنی ہے۔ کوئی شخص عقل رکھتا ہو اور ان امور کونگاہ میں رکھ کرسوچے تو وہ ایک لمحہ کےلیے بھی نہ یہ تصّور کرسکتا ہے کہ کسی خالق حکیم کی منصوبہ سازی کے بغیر یہ مناسبتیںمحض ایک حادثہ کے نتیجے میں خود بخود قائم ہوگئی ہیں، اورنہ یہ گمان کرسکتا ہے کہ اس عظیم الشان تخلیقی منصوبے کوبنانا اور روبعمل لانے میں کسی دیوی دیوتا، یا جن ، یانبی وولی، یا فرشتے کاکوئی دخل ہے۔ |