Ayats Found (1)
Surah 2 : Ayat 190
وَقَـٰتِلُواْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَـٰتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ
اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں1، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا2
2 | یعنی تمہاری جنگ نہ تو اپنی اغراض کےلیے ہو، نہ اُن لوگوں پر ہاتھ اُٹھا ؤ ، جو دینِ حق کی راہ میں مزاحمت نہیں کرتے، اور نہ لڑائی میں جاہلیّت کے طریقے استعمال کرو۔ عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں اور زخمیوں پر دست درازی کرنا، دشمن کے مقتولوں کا مُثلہ کرنا، کھیتوں اور مویشیوں کو خواہ مخواہ برباد کرنا اور دُوسرے تمام وحشیانہ اور ظالمانہ افعال ” حد سے گزرنے“ کی تعریف میں آتے ہیں اور حدیث میں ان سب کی ممانعت وارد ہے۔ آیت کا منشا یہ ہے کہ قوت کا استعمال وہیں کیا جائے ، جہاں وہ ناگزیر ہو، اور اُسی حد تک کیا جائے ، جتنی اس کی ضرورت ہو |
1 | یعنی جو لوگ خدا کے کام میں تمہارا راستہ روکتے ہیں، اور اس بنا پر تمہارے دُشمن بن گئے ہیں کہ تم خدا کی ہدایت کے مطابق نظامِ زندگی کی اصلاح کرنا چاہتے ہو، اور اس اصلاحی کام کی مزاحمت میں جبر و ظلم کی طاقتیں استعمال کر رہے ہیں، ان سے جنگ کرو۔ اس سے پہلے جب تک مسلمان کمزور اور منتشر تھے، ان کو صرف تبلیغ کا حکم تھا اور مخالفین کے ظلم و ستم پر صبر کرنے کی ہدایت کی جاتی تھی۔ اب مدینے میں ان کی چھوٹی سی شہری ریاست بن جانے کے بعد پہلے مرتبہ حکم دیا جا رہا ہے کہ جو لوگ اس دعوتِ اصلاح کی راہ میں مسلح مزاحمت کرتے ہیں، ان کو تلوار کا جواب تلوار سے دو۔ اس کے بعد ہی جنگ ِ بدر پیش آئی اور لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا |